30 مئی 2026 - 15:24
مآخذ: ابنا
مزاحمتی تحریک نے اسرائیل کو ایک گہرے اسٹریٹجک بحران اور مخمصے میں مبتلا کر دیا ہے

لبنان کی حزب‌الله کے ایک رکن پارلیمان حسین الحاج حسن نے کہا ہے کہ مزاحمتی تحریک نے اسرائیل کو ایک گہرے اسٹریٹجک بحران اور مخمصے میں مبتلا کر دیا ہے، جس سے وہ اب تک نکلنے میں ناکام ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،لبنان کی حزب‌الله کے ایک رکن پارلیمان حسین الحاج حسن نے کہا ہے کہ مزاحمتی تحریک نے اسرائیل کو ایک گہرے اسٹریٹجک بحران اور مخمصے میں مبتلا کر دیا ہے، جس سے وہ اب تک نکلنے میں ناکام ہے۔ ان کے مطابق صہیونی دشمن کے پاس حزب‌الله کے ڈرون حملوں اور مزاحمتی کارروائیوں کا مؤثر جواب موجود نہیں ہے، اسی لیے وہ شہری آبادی کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے لبنان کے لیے ایک نیا سیکیورٹی منصوبہ پیش کیا گیا ہے جس کے تحت لبنانی فوج کے اندر ایک خصوصی یونٹ تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے اہلکاروں کا انتخاب، تربیت اور اسلحہ امریکی نگرانی میں ہوگا اور اس کا بنیادی ہدف حزب‌الله کے خلاف کارروائی ہوگا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ لبنان کی خودمختاری کے لیے خطرناک ہے اور اسے مسترد کیا جانا چاہیے۔

حزب‌الله کے رکن نے مزید کہا کہ بعض حلقے لبنان، اسرائیل اور امریکہ پر مشتمل مشترکہ سیکیورٹی کمیٹی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ان کے بقول ملک کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی عوام ایسی کسی بھی تجویز کو قبول نہیں کرتے جو ملک کو بیرونی دباؤ کے تحت تقسیم کرے یا تصادم کی طرف لے جائے۔

ان کے مطابق اسرائیل حزب‌الله کے خلاف اپنی فوجی اور سیاسی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اب وہ ایک بند گلی میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمتی قوتیں مسلسل اپنی حکمت عملی کو مضبوط بنا رہی ہیں اور دشمن کے ہر حملے کا مناسب جواب دیا جائے گا تاکہ اس کے مقاصد ناکام بنائے جا سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کی بعض معاشی اور فلاحی تنظیموں کو نشانہ بنانا دراصل عوامی زندگی کو متاثر کرنے کی کوشش ہے، لیکن مزاحمت اس طرح کی کارروائیوں کے سامنے خاموش نہیں رہے گی۔

ایک اور لبنانی رکن پارلیمان علی المقداد نے کہا کہ اسرائیل کی جارحیت کا مقصد خطے میں کسی بھی ممکنہ جنگ بندی یا سیاسی سمجھوتے کو متاثر کرنا ہے، خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو۔ ان کے مطابق لبنانی حکومت ایسے مذاکرات میں داخل ہو چکی ہے جن کے نتائج پہلے سے واضح ہیں اور عوام کی اکثریت انہیں مسترد کرتی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ لبنانی فوج کسی بھی ایسے منصوبے کی حمایت نہیں کرے گی جس سے ملک کے اندر داخلی تصادم پیدا ہو۔ ان کے مطابق بعض سیاسی شخصیات بیرونی ایجنڈوں کے مطابق کام کر رہی ہیں، تاہم حزب‌الله کے وزراء اس وقت حکومت سے باہر نہیں جائیں گے تاکہ ملکی مسائل پر کام جاری رکھا جا سکے۔

حزب‌الله رہنماؤں کے مطابق مزاحمت کو عوامی حمایت حاصل ہے اور وہ کسی بھی بیرونی دباؤ یا فوجی کارروائی کے باوجود اپنی پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹے گی، جبکہ اسرائیل کے لیے لبنان میں اپنی فوجی موجودگی یا اثر و رسوخ قائم کرنا ممکن نہیں رہا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha